بدلے موسم نہ کبھی آئے زمانے کتنے
Poet: Faisal Sheikh By: Faisal Sheikh , Karachiبدلے موسم نہ کبھی آئے زمانے کتنے
مٹ گئے آنکھوں سے کچھ خواب پرانے کتنے
در بدر پھرتے رہے شوق جنوں کی خاطر
برگ آوارہ بنے بدلے ٹھکانے کتنے
تم کو کھونے کا کچھ احساس نہ ہو
سوچ کر چھوڑے یہیِ ہم نے آشیانے کتنے
مدتوں بعد تمہیں دیکھا جو
بج اُٹھے دل میں وہی ساز پرانے کتنے
آج بھی تیری محبت کا ہی اسیر ہوں میں
من میں ہیں آج بھی ارمان سہانے کتنے
اپنی الفت کو کہیں چھوڑ کر میں تنہا نہیں
ہمسفر اور بھی ہیں ساتھ دیوانے کتنے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






