بدنام ہو ہی جائیں گے نفرت کی ہار میں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلابدنام ہو ہی جائیں گے نفرت کی ہار میں
چلتے ہیں بیٹھنے کسی ماضی کی غار میں
چلتی رہیں حیات میں ظلمت کی آندھیاں
اڑتی رہی ہیں خواہشیں گرد و غبار میں
وہ لے اڑا ہے میرے بھی سانسوں کی سرزمیں
تُو غرق ہے بہار کے جھوٹے خمار میں
بھنورا چرا کے لے گیا پھولوں کی شوخیاں
خزاؤں کے بھی رنگ ہیں بادِ بہار میں
جو ہو سکے تو تُو بھی اٹھا لے نا فائدہ
مشہور ہو گئی ہوں ترے اشتہار میں
تکمیلِ وصلِ عشق میں زندہ رہی مگر
وشمہ میں ماری جاؤں گی اب انتظار میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






