بر سرِ بزم حریفوں نے اشارہ دیکھا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلابر سرِ بزم حریفوں نے اشارہ دیکھا
اس کی آنکھوں نے کہاں درد ہمارا دیکھا
یہ بھی سچ ہے کی زمانے کو بھلا کر ہم نے
ہر گھڑی راحتِ جاں رستہ تمہارا دیکھا
وہ کہیں دور فلک پر تھا بہت افسردہ
آسماں پر جو مقدر کا ستارا دیکھا
اپنے معیار کے قابل تھے کہاں لوگ مگر
ایک بس تیرے لیے ان کو گوارا دیکھا
ہم بھی تیار تھے چلنے کو کسی اور نگر
پیچھے مڑکر بھی کہاں اس نے دوبارہ دیکھا
تیری فرقت میں کبھی چین نہ آیا وشمہ
اِس جوانی میں فقط ہم نے گزرا دیکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






