برا ہی کیا تھا جو آپ اپنی مثال ہوتے کمال ہوتے
Poet: عابد عمر By: مصدق رفیق, Karachiبرا ہی کیا تھا جو آپ اپنی مثال ہوتے کمال ہوتے
کسی طرح سے جو ٹوٹے رشتے بحال ہوتے کمال ہوتے
یہ لیلیٰ مجنوں یہ ہیر رانجھا یہ شیریں فرہاد کی محبت
تھی ایسی شدت کہیں جو ان کے وصال ہوتے کمال ہوتے
پڑھا نہیں تھا نصاب الفت عمل میں آگے تھے ہر کسی سے
سمجھتی دنیا اگر ہمیں بے مثال ہوتے کمال ہوتے
وہ مجھ سے ملتا خموش رہتا خموشیوں پر ہی داد پاتا
مگر جو نظروں سے منفرد سے سوال ہوتے کمال ہوتے
یہ کیا کہ تنہائیوں سے رشتہ بنا کے خود کو گنوا لیا ہے
سما کے مجھ میں جو آپ میرا جمال ہوتے کمال ہوتے
جسے بھی دیکھا اسی کو دعوائے حسن کرتے سنا گیا ہے
جہان بھر میں حسیں اگر خال خال ہوتے کمال ہوتے
نصیب اپنا سخنوروں میں ہماری گنتی نہ ہو سکے گی
عمرؔ اداکار ہم اگر با کمال ہوتے کمال ہوتے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






