یوں تری راہ میں پڑے ہوئے ہیں

Poet: عابد عمر By: مصدق رفیق, Karachi

یوں تری راہ میں پڑے ہوئے ہیں
جیسے درگاہ میں پڑے ہوئے ہیں

غم ہیں جتنے بھی اس زمانے کے
میری اک آہ میں پڑے ہوئے ہیں

میرے بچوں کے خواب تو فی الحال
چھوٹی تنخواہ میں پڑے ہوئے ہیں

بچ کے نکلے جو موت کے منہ سے
یاد اللہ میں پڑے ہوئے ہیں

کب کسی کی ہوئی ہے یہ دنیا
ہم عبث چاہ میں پڑے ہوئے ہیں

خاک ہونا نصیب ہے لیکن
حشمت و جاہ میں پڑے ہوئے ہیں

اک نظر ہم پہ مہوش اعظم
تیرے کنجاہ میں پڑے ہوئے ہیں

کچھ غرض ہی نہیں جسے ہم سے
اس کی پرواہ میں پڑے ہوئے ہیں

جن کو زنداں میں ہونا چاہیے تھا
حجرۂ شاہ میں پڑے ہوئے ہیں

آپ سے ہم کلام ہے عابدؔ
لوگ کیوں واہ میں پڑے ہوئے ہیں
 

Rate it:
Views: 246
04 Mar, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL