بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا

Poet: عابد عمر By: مصدق رفیق, Karachi

بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا
کیا خدا مجھ کو بھی ایسی بھلی قسمت دے گا

زندگی ہے یہ میاں رنج و الم تو ہوں گے
جو گزارے گا وہ لازم ہے کہ قیمت دے گا

فرضی دنیا سے نکل اور حقیقت لکھ دے
شعر پرواز کرے گا تجھے عزت دے گا

دیکھ مایوس نہ ہو کفر نہیں کر پیارے
بے دلی چھوڑ خدا تجھ کو بھی راحت دے گا

کر گئی عمر اکارت مری ہائے ہائے
اک غلط فہمی کہ تو مجھ کو محبت دے گا

کل ملا کے ہے اثاثہ مرا یہ عمر رواں
رد نہیں ہوگی دعا رب مرا برکت دے گا

میں تو سمجھا تھا محبت کا بلاوا ہے عمرؔ
کیا خبر تھی وہ مجھے موت کی دعوت دے گا
 

Rate it:
Views: 226
04 Mar, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL