برس کے جا بھی چکا تیرے پیار کا موسم۔
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Moscowبرس کے جا بھی چکا تیرے پیار کا موسم
وہ بے زبان لبوں کی پکار کا موسم
خزائیں جا بھی چکیں، اور بہار آبھی گئی
مگر نہ بدلا دلِ بے قرار کا موسم
نہ جانے کیسی قیامت کی نارسائی ہے
نہ آیا مجھ پر تیرے اختیار کا موسم
ہمیں یہ ضد ہے کہ تجھ سے کبھی نہ مانگیں گے
ترے وصال کا منظر، خمار کا موسم
مرے حواس پہ چھایا ہے کتنا سناٹا
کوئی ہوا چلے ، آئے بہار کا موسم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






