برستا ے جب ساون رقص کرتا ھوا جیسے
Poet: Rubina Biswas By: rubina biswas, kARACHIبرستا ے جب ساون رقص کرتا ھوا جیسے
ھو حور یہ حسینہ جھوم رھی ے لہراتی
جھڑی پھول کھلے
کوئل کوکی ھوا سے پتوں کی پائل بجی
بھیگے چاند ستارے سبھی دریا بنے کی
لہز جاگ اٹھی دیکھو مجھے فضاں کی
شوخ ھواوں میں
برستا ے جب ساون بوندوں کے زور پر
بہاروں کے حسیں موسم میں
قوس وقزح کے رنگوں میں
اس قدر پیار سے کھل رھی ے
خوشبو سے چمکتی ھوئے دل میں
کھل رے ھیں گلاب قطرہ قطرہ
مدھم مدھم ایی ے بارش فراق
تیری آوز محبث کی اّنچ سے
ہکنے لگا دل چپکے چپکےبرستا ے
جب ساون رقص کرتا ھوا جیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






