برف کے گالے نے کہاں

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, Quetta

لا کے چھوڑا ہے مُجھے چھوڑنے والے نے کہاں؟
چین کا سانس لِیا درد کے پالے نے کہاں

اپنی دھرتی سے ہُؤا دُور تو احساس ہُؤا
کھینچ کے لایا ہے روٹی کے، نِوالے نے کہاں؟

جانتا ہُوں کہ تُو نادان سمجھتا ہے مُجھے
اِک ذرا راز کِیا فاش یہ بالے نے کہاں؟

اب سے پہلے میں کبھی اپنا ہُؤا کرتا تھا
اپنا رہنے ہی دیا تیرے حوالے نے کہاں؟

کی وفا مُجھ سے کہاں رات کی تارِیکی نے
چین بخشا ہے کبھی دِن کے اُجالے نے کہاں؟

میں تِرے لوٹنے کی آس لِیئے بیٹھا ہُوں
روک رکھا ہے تُجھے سوچ کے جالے نے کہاں؟

چاند کو حلقہ کِیے رہتا ہے بس چودھویں رات
بات مانی ہے کبھی چاند کے ہالے نے کہاں؟

سب کے اخبار تو بے رنگ بھی مُشہور ہُوئے
نام پایا ہے مِرے درد رِسالے نے کہاں

اِک تصّوُر نے تِرا رنگ ہی بدلا ہے رشِیدؔ
آگ سُلگائی ہے اِس برف کے گالے نے کہاں؟
 

Rate it:
Views: 327
05 Jan, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL