میں اس کا تھا

Poet: ایان آفتاب By: ایان آفتاب, Tandoallahyar

میں اس کا تھا اسکا ہوں اسے یاد دلانا
وو رویے جب تب اسے میری ہنسی یاد دلانا

گاوں میں کھیلتے کھیلتے کانٹوں پے ہو اگر چلنا اسکا
تو خون کو پانی سے نا دھونا اسے یاد دلانا

خچروں پے سفر کیا ہم نے گھوڑوں کا شوق نہیں تھا
وہ پیدل چلے تو صاحب اسے آفتاب کی سواری یاد دلانا

پانی کی قلت تھی کنویں سے رسیاں کھینچ کر پتیلے بھرتے
اب وہ پانی پیتے بھول جائے تو اسے میری نیت یاد دلانا

پیڑوں کی چھاؤں میں طوطوں کے بچے شکار ہوتے ہیں
شاہین ڈھونڈھتے ہیں کھلے پہاڑ اسے یاد دلانا

مجھ سے محبّت کی ہے خواری انام ہے یہی
دروازوں پر دستک محبوب کے دشمن دیتے ہیں اسے یاد دلانا

Rate it:
Views: 358
05 Jan, 2023
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL