برق الفت جو تجلی سے جلانے نکلے

Poet: دانیال حیدر جعفری By: دانیال حیدر جعفری, Islamabad

برقِ الفت جو تجلی سے جلانے نکلے
تو سرِ راہ محبت کے فسانے نکلے

کل زمانے کو سنائیں گے یہ غزلیں میری
آج جو ہیں میری آواز دبانے نکلے

ہر نظارے میں نمایاں ہوا جلوہ ان کا
حُسن جب حُسن پرستوں سے چھپانے نکلے

آج مارے گئے وہ اپنی انا کے ہاتھوں
جب مجھے برسرِ میدان بچانے نکلے

سنگ ہاتھوں میں لیئے اہلِ زمانے آئے
آئینہ ہم جو زمانے کو دکھانے نکلے

باخدا جان سے جائیں گے یہ دنیا والے
دردِ دل ہم جو انہیں اپنا سنانے نکلے

ایک لمحہ تھا، تیرے وصل کا لمحہ اس میں
تُو نہ سمجھے گا میرے کتنے زمانے نکلے

اُس کو رغبت تھی نئے طرز محبت سے بڑی
میرے اندازِ محبت بھی پرانے نکلے

جب وہ گویا ہوا تب اُس کی زباں سے حیدر
ترکِ الفت کے بھی کیا کیا نہ بہانے نکلے
 

Rate it:
Views: 283
01 Aug, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL