برکھا نے سازچھیڑے کوئل نے گیت گایا ( دو گانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanلڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھانے لگیں گھٹائیں اور چاند مسکرایا
برکھا نے ساز چھیڑے کوئل نے گیت گایا
مہکی ہوئی فضائیں ،مستی بھری ہوائیں
نغمے محبتوں کے گا گا ہمیں سنائیں
موسم حسین کیسا ہر سمت آج چھایا
چھانے لگیں گھٹائیں اور چاند مسکرایا
لڑکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھولوں کے لب کھلے ہیں کچھ تم سے کہہ رہے ہیں
دوری تمھاری جانے کب سے یہ سہہ رہے ہیں
ہر پھول ہر کلی کا تم نے ہے دل چرایا
برکھا نے ساز چھیڑے کوئل نے گیت گایا
لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا حسیں سفر ہے کتنی حسین راہیں
مجھ کو ملی پناہیں تیری یہ گرم بانہیں
انداز میرے دل کو تیرا ہر ایک بھایا
چھانے لگیں گھٹائیں اور چاند مسکرایا
لڑکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدہوش ہیں نظارے ، مستی بھرا سماں ہے
جذبے مچل رہے ہیں اور رات بھی جواں ہے
جانم یہ پیار ہم کو کس موڑ پہ لے آیا
برکھا نے ساز چھیڑے کوئل نے گیت گایا
چھانے لگیں گھٹائیں اور چاند مسکرایا
برکھا نے ساز چھیڑے کوئل نے گیت گایا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






