بس اتنی سی گزارش ہے
Poet: By: Shama, Gujranwalaدسمبر کے آخری دن اور سردیوں کی پہلی بارش ہے
ہمیشہ کی طرح آج بھی بس اتنی سی گزارش ہے
کہ پہلے تو ہاسٹل کا بند کھڑکیوں والا کمرہ تھا اور تم تھے
مگر اب وقت بدل گیا اور تمہاری تنہائی بھی رونق میں بدل چکی ہے
اس گھڑی شاید کسی کے وجود کے سائے میں ہو
پھر بھی سُنو ،، اے جانِ جاں
یہ جو تعلق ہمارا ہے اب ہوا چار سال پُرانا ہے
اس سے پہلے کہ آغاز سالِ پنجم ہو
مجھے آگے بڑھنے کی کچھ تو اُمید دلا دو
شاید سمے کی بھی یہی سازش ہے
مجھے بس ایک بار،بس ایک بار جاناں
میرے نام سے پُکار دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






