بس تیرے ہجر میں رہوں جی بہتر
Poet: Syed By: Sohaim, Islamabadدوسرا عشق نہ کروں ؟جی بہتر
بس تیرے ہجر میں رہوں ؟جی بہتر
تو کہیں بھی نہیں ملے مُجھکو ؟
اور میں ڈھُونڈتا پھِروں ؟جی بہتر
اہنے پاؤں میں باندھلُوں زنجیر ؟
اب کسی سے نہیں مِلُوں ؟ جی بہتر
میں قلم توڑدُوں تُمہارے بعد ؟
ایک بھی شعر نہ لِکھوں ؟جی بہتر
تو جہاں چاہے پیش ہوجاؤں ؟
تو نہ چاہے تو نہ دِکھوں ؟ جی بہتر
اور لوگوں سے ساحلُوں پہ ملے
میں فقط خواب میں مِلوں ؟ جی بہتر
تیری ہر بات پر جھُکادوں سَر ؟
تیری ہر بات پر کہوں ؟ جی بہتر ؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






