بس رہے ہیں اس نگر میں جِن و اِنساں ایک ساتھ
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہبس رہے ہیں اس نگر میں جِن و اِنساں ایک ساتھ
یہ رِوایت چل پڑی ہے ظُلم و احساں ایک ساتھ
اب توقع ہم سے رکھنا خیر خواہی کی عبث
ہم نے سارے توڑ ڈالے عہد و پیماں ایک ساتھ
چھا گئی ہے زِندگی پر اب تو فصلِ رنج و غم
جھیلتے ہیں زخمِ دوراں، قیدِ زنداں ایک ساتھ
بِالیقیں ہوں گے مُیسّر، تھے نصِیبوں میں اگر
جام و مِینا اور یارو بزمِ رِنداں ایک ساتھ
اُنگلِیوں پر لوگ مِصرعے ماپتے رہتے ہیں کیا
فاعِلن یا فاعِلاتن سب پریشاں ایک ساتھ
کُچھ غلط کرنے کو تھے لیکِن خُدا کا فضل ہے
گھر کو لوٹے سائے دو ہو کر پشیماں ایک ساتھ
اِک طرف تو پاؤں کی زنجِیر بن کر رہ گئی
دُوسرے دل کو ڈسے زلفِ پریشاں ایک ساتھ
کیا مزہ ہے زِندگی کا جب تلک لاحق نہِیں
فِکرِ دوراں اور تھوڑی فکرِ جاناں ایک ساتھ
لاج سے حسرتؔ تُمہیں کُچھ واسطہ ہے یا نہِیں
کیا رکھو گے دِل میں اب اصنام و اِیماں ایک ساتھ؟
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






