بس یہ ہی مشورہ ہے کہ فی الحال دیکھیے
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaبس یہ ہی مشورہ ہے کہ فی الحال دیکھیے
ہونٹوں کو سی دہر کی بُری چال دیکھیے
اک بے گناہ مرد کو مجرم بنا گئے
عورت کے آنسوئوں کا عجب جال دیکھیے
اُس کی تو آن بان میں آئی نہیں کمی
کر دی ہے میری آبرو پا مال دیکھیے
اک تو ہماری جہد کو ناکام کہ دیا
بکڑے ہیں الٹا چہرے کے سرتال دیکھیے
مفہومِ زندگی کو سمجھنے کے واسطے
مفلس کی زندگی کے مہہ و سال دیکھیے
میرے ہی مفلسی میں کوئی شعر نہ سنے
اُمرا کے مونہہ سے نکلے تو کرتال دیکھیے
چرچے مِرے مزاج کے پھیلے تھے چار سُو
بے کاریوں نے کر دیا بے مال دیکھیے
بجھنے لگے چراغ مِری حسرتوں کے اور
کتنے دنوں کے بعد کھلے بال دیکھیے
شاعر مزاج شخص کو پاگل کہا گیا
آئے جو زندگی میں خد و خال دیکھیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






