بسا آنکھوں میں کوئی خواب بن کر
Poet: Naveed Ahmed Shakir By: Naveed Ahmed Shakir, Multanبسا آنکھوں میں کوئی خواب بن کر
اترا پھر دل میں وہ عذاب بن کر
ہجر میں کیا حال رہا کیا بتا ئیں
بہا آنکھوں سے خون آب بن کر
تیرے پیجھے پھول تیری طرح نکلے
دھوکہ دے گئے کانٹے گلاب بن کر
سوال میرے رہ گئے سوال بن کر
آئے تیرے سوال جو جواب بن کر
تجھے کیا بتائیں گئے دنوں کی باتیں
آتے ہیں یاد وہ لمحے احتساب بن کر
عمر بھر اب تیری یادوں کو پڑھنا ہے
آیا ہے زندگی میں تو نصاب بن کر
غریب نہیں واقعی غریب تھا وہ شاکر
گزاری زندگی جس نے نواب بن کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






