بعد مدت مجھے ملا کیوں ہے
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, Mississauga, Canada بعد مدت مجھے ملا کیوں ہے
مل کے پھر اسقدر خفا کیوں ہے
کچھ نہیں ، نہ سہی ، مگر یہ بتا
چور آ نکھوں سے دیکھتا کیوں ہے
باتوں باتوں میں ساری دنیا سے
میرے بارے میں پوچھتا کیوں ہے
پوچھنے والے یہ بتا تو سہی
پوچھ کر یوں اُداس سا کیوں ہے
سوچتا ہو ں کہ میرا پاگل دل
آج بھی تجھکو چاہتا کیوں ہے
تو نے پھر یاد کی ہتھیلی پر
نام اُس شخص کا لکھا کیوں ہے
اوڑھنی اُسکی زَرد ہے ، لیکن
رنگ تیرا اُڑا اُڑا کیوں ہے
ہم تو چپُ ہیں، کہ ہیں اُداس بہت
شہر کا شہر بے صدا کیوں ہے
بھولنے والے اب بھی تیرے لئے
میرے لب پر کوئی دعا کیوں ہے
رات اِس سوچ میں کٹی انور
چاند ا تنا تھکا تھکا کیوں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






