بغاوت
Poet: Faiz Ahmad Jhanjhanvi By: Bilal Faiz, faisalabadاگر ہم نغمہ وطن گائیں بغاوت ہے
زبان پر جور و جفا لائیں بغاوت ہے
شکار غمزہ خون ریز ہو کر ہم سر مقتل
اگر سینے پہ ہنس کر گولیاں کھائیں بغاوت ہے
کسی مظلوم کا افسانہ ناگفتہ بہ سن کر
اگر ہم فطر تن بے چین ہو جائیں بغاوت ہے
دل اندوہ گیں اور نالہ بیباک کیا معنی
ذرا آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئیں بغاوت ہے
اگر دامن بچا کر ہم فصائے خار ساماں سے
نسیم صبح کی صورت گزرجائیں بغاوت ہے
وہ دستور ہمایونی وہ آئیں جہانگیری
اگر اب بھول کر بھی یاد آہیں بغاوت ہے
اگر شیخ و برہمن کو ہم آہنگ وطن کر کے
کوئی بھولی ہوئی تاریخ دہرائیں بغاوت ہے
نگاہ سینہ چاکان چمن میں بجلیاں بھر کر
چمن میں زنذگی کی لہر دوڑائیں بغاوت ہے
جین لالہ و گل سے شہرار رنگ و بولے کر
اگر ہم سینہ شبنم کو گرمائیں بغاوت ہے
چراغ ہر گل ترکو فروغ جاوداں دیکر
فضائے گلستان پر نور برسائی بغاوت ہے
غرض وہ بجلیاں بھی ہم پہ برسائیںتو برسائیں
اگر ہم داغ دل بھی ان کو دکھلائیں بغاوت ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو








