بلا عنوان ایک آزاد نظم سب کے نام
Poet: farah ejaz By: farah ejaz, Karachiالفاظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں
ہونہی بات کرتے کرتے کبھی
جب کچھ کہنے کو باقی نہ بچے
تو چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں ہم بھی
ہر ملاقات پر گمان ہوتا تھا کہ شاید آخری ہو
الودہ کہنے میں بھی برسوں لگادئے ہم نے یونہی
اب کے تمہاری بزم میں ہم نہ دکھائی دینگے
محفلیں سجاتے رہنا تم اب ایسے ہی
جہاں رہو خوش رہو کامیاب رہو کمران رہو
دل کو تمہاری خوشی مقدم ہے اب بھی
تمہیں دیکھنے کی چاہ بہت تھی مگر
ہم نے یہ خواہش بھی دل سے مٹا دی ہے ابھی ابھی ۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






