بن تیرے کبھی چاند ہے ابھرا نہیں دیکھا

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

بن تیرے کبھی چاند ہے ابھرا نہیں دیکھا
سورج بھی کبھی وقت پہ ڈھلتا نہیں دیکھا

ویسے تو کئی اور ملے پر حسن کے پیکر
اے جان تمنا کوئی تجھ سا نہیں دیکھا

بن تیرے مرا کونسا دن چین سے گزرا
کس شخص نے مجھ کو کبھی روتا نہیں دیکھا

معمولی سی وحشت بھی اسے خون رلا دے
جس نے بھی کبھی عشق کا صحرا نہیں دیکھا

جیسے کہ ضرورت ہو ستاروں کی قمر کو
وہ شخص کبھی شہر میں تنہا نہیں دیکھا

جس میں ہو لحد تک ہی وفاداری کا جذبہ
ہم نے تو کوئی شخص بھی ایسا نہیں دیکھا

یہ ہجر جو باقرؔ مرے دلبر کی عطا ہے
یہ سوچ کے میخانے کا رستہ نہیں دیکھا
 

Rate it:
Views: 380
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL