یاد رکھنا کہ جدھر اُن کا اشارا جاۓ

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

یاد رکھنا کہ جدھر اُن کا اشارا جاۓ
سَر وہیں میرا سناں پر سے اُتارا جاۓ

اِس سے بڑھ کر نہیں مل سکتا بڑا نام ہمیں
مقتلوں میں جو لکھا نام ہمارا جاۓ

میری خواہش نہیں جھک جھک کے مجھے لوگ ملیں
اپنی اوقات سے ہی مجھ کو پکارا جاۓ

یہ غمِ ہجر مری جان نہ لے جاۓ کہیں
بس یہی بوجھ مرے سَر سے اُتارا جاۓ

مفلسی ایسی کہ مرنے کو بھی سامان نہیں
زندگی تجھ کو بتا کیسے گزارا جاۓ

تُو مرے ساتھ نہیں ہوتا تو یوں لگتا ہے
ماند پڑتا مری قسمت کا ستارا جاۓ

شہرِ یزداں میں جسے شوق ہے حق گوئی کا
عین ممکن ہے کسی روز وہ مارا جاۓ

حسن والے تو ہزاروں ہیں جہاں میں باقرؔ
پر یہ دل ہے کہ اسی شخص پہ ہارا جاۓ
 

Rate it:
Views: 469
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL