بن دیکھا محبوب
Poet: SYED ZULFIQAR HAIDER By: SYED ZULFIQAR HAIDER, Nizwa, Omanاک دھندلی سی تصویر آنکھوں میں سماۓ رہتی ہے
دل میں بھی یہ صورت ہلچل مچاۓ رہتی ہے
مکمل چہرہ بھی نہیں صورت بھی ہے ادھوری
نگاہ پھر بھی اُسے محبوب بناۓ رہتی ہے
میرے خوابوں میں آتی ہے حیا کی چادر اوڑھے
گھونگھٹ چہرے سے اُٹھاتی نہیں تڑپاتی رہتی ہے
بے چین کر کے اچانک چلی جاتی ہے دور
ملاقات کی خواہش اُمید بن کر پھر بھی رہتی ہے
ارمان ہیں اپنے محبوب کی آنکھوں میں دیکھوں
جانتی ہے اس لیئے پلکیں جھکاۓ رہتی ہے
یقین ہے اپنے چہرے سے نقاب اُٹھاۓ گی اک دن
ذوالفقار کا پیار دل میں لیئے وہ بھی بے قرار رہتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






