بند کرو یہ تلخیاں
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ) , K.S.Aبند کرو یہ تلخیاں
میں نے بچپن سے
عذاب دیکھیں ہیں
تم مانو یا نہ مانو مگر
تمہارے آنے سے پہلے
تمہارے آنے کے
خواب دیکھیں ہیں
جن کے سوال ڈھونڈنا
بہت ہو مشکل
میں نے ایسے بھی
جواب دیکھیں ہیں
جن کی روشنی خود کو
ہی کر دے برباد
میں ایسے بھی مہتاب دیکھیں ہیں
بے درد دی سے جن کو
پروں تلے روندہ ہو
جانتے ہو کیا میں نے
وہ نایاب دیکھیں ہیں
چھوڑو ! تم سمجھ کر بھی
کبھی نہیں سمجھو گے
میں نے اپنوں کے چہروں پر
بھی نقاب دیکھیں ہیں
میں رات کو اکثر
روتی روتی ُاٹھ جاتی ہوں
تمہاری یاد کے
اپنے گرد آداب دیکھیں ہیں
میرے روایے میں بہت
تبدلی آ گئی ہے
میں نے خود پر گرتے
جھوٹ کے تیزاب دیکھیں ہیں
دیکھو میری مسکراہٹ پر مت جاؤ
میں نے مردہ خواہشوں کے
اپنے اندر بے پناہ باب دیکھیں ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






