بند کرو یہ تلخیاں

Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ) , K.S.A

بند کرو یہ تلخیاں
میں نے بچپن سے
عذاب دیکھیں ہیں
تم مانو یا نہ مانو مگر
تمہارے آنے سے پہلے
تمہارے آنے کے
خواب دیکھیں ہیں
جن کے سوال ڈھونڈنا
بہت ہو مشکل
میں نے ایسے بھی
جواب دیکھیں ہیں
جن کی روشنی خود کو
ہی کر دے برباد
میں ایسے بھی مہتاب دیکھیں ہیں
بے درد دی سے جن کو
پروں تلے روندہ ہو
جانتے ہو کیا میں نے
وہ نایاب دیکھیں ہیں
چھوڑو ! تم سمجھ کر بھی
کبھی نہیں سمجھو گے
میں نے اپنوں کے چہروں پر
بھی نقاب دیکھیں ہیں
میں رات کو اکثر
روتی روتی ُاٹھ جاتی ہوں
تمہاری یاد کے
اپنے گرد آداب دیکھیں ہیں
میرے روایے میں بہت
تبدلی آ گئی ہے
میں نے خود پر گرتے
جھوٹ کے تیزاب دیکھیں ہیں
دیکھو میری مسکراہٹ پر مت جاؤ
میں نے مردہ خواہشوں کے
اپنے اندر بے پناہ باب دیکھیں ہیں

Rate it:
Views: 466
14 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL