بندھ باندھے ہوا کے رستوں پر
Poet: AzharM By: azharm, Dohaبندھ باندھے ہوا کے رستوں پر
چل پڑے ہو خطا کے رستوں
روشنی ہے بہت اندھیروں میں
اور اندھیرا ضیا کے رستوں پر
مجھ کو ملتا تو کس طرح ملتا
وہ چلا کب وفا کے رستوں پر
اُن کا سوچو، حساب مانگیں گے
منتظر ہیں قضا کے رستوں پر
چین کھویا تھا دن کی راہوں میں
نیند روٹھی مسا کے رستوں پر
تُم شہادت کو موت کہتے ہو
یہ بقا ہے، فنا کے رستوں پر
ایک عزت ملے تو کیا اظہر
ایک عزت لُٹا کے رستوں پر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






