بنیان المرصوص
Poet: صبا ارشد By: ارسلان خالد, Hafizabadبنیان المرصوص
الصلوة خير من نوم۔۔۔ .
اٹھ اے مرد مجاہد! نعرہ تکبیر بلند
کر
رگ جان سے قریب ہستی نے تجھے پکارا ہے
کہ دشمن نے تیرے وطن کی غیرت کو للکارا ہے
پڑھ !اللہ اکبر کہ تیرے لہو کی شدت تجھے بنیان مرصوص بنائے
اے دشمن تو نے امن و سلامتی کے گہوارے کو للکارا ہے
تو نے ارض پاک کے صبرکو آزمایا، دیکھ اب مجھے بھی چکھنا نظارا ہے
تیرے رافیل کی اڑان میرے وطن کے ابابیلوں کے قدموں کی دھول ہے
تیری یہ ذرہ اڑن طشتریوں کی وہ چال کہاں جو میرے وطن کے شاہینوں کی پرواز میں ہے
یہ جو تم نے بھیجے ہیں نہ ہواؤں میں بارودی تیر
ان پر کمند ڈالنے کو ہیں میرے وطن کے شاہین
جو فضا میں لہرائے تو فضاؤں کا بادشاہ کہلائے
کروٹیں ایسی بدلے کہ ماں کی مامتا مچلے
میرے وطن کی مٹی نے وہ سپوت جنے ہیں
جو تیری گھٹیا چال کو ناکام بنائے تو بنیان مرصوص کہلائے
تو نے کیا رات کے پچھلے پہر جو پہلا وار ، اور بولے جے شنکر
ہم نے دن کی پھوٹتی پہلی کرن پردیا منہ توڑ جواب اور بولے اللہ اکبر
میرے وطن کے عسکر جرار میں اتنا جنون کہ وہ ہیں بنیان مرصوص
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






