بچھڑ چکی جو مجھ سے مری صدا ہی نہ ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیابچھڑ چکی جو مجھ سے مری صدا ہی نہ ہو
کواڑکھول کے دیکھو کہیں ہوا ہی نہ ہو
عجیب لگنے لگی ماں کے بعد یہ دنیا
میں اس کو پھر منا لوں کہیں خفا ہی نہ ہو
جس کے آسماں پہ جانے کا سوچتی ہوں ابھی
مری زمیں پہ وہ میرا کہیں خدا ہی نہ ہو
وہ کام زیست میں کرنا پڑا مجھے اکثر
جسے کرنے کو دل نے کبھی کہا ہی نہ ہو
جس کے آسماں پہ جانے کا سوچتی ہوں ابھی
مری زمیں پہ وہ میرا کہیں خدا ہی نہ ہو
وہ کام زیست میں کرنا پڑا مجھے اکثر
جسے کرنے کو دل نے کبھی کہا ہی نہ ہو
مرے گھر میں یوں روٹھی ہے روشنی مجھ سے
میں لاکھ خود کو جلاؤں مگر ضیا ہی نہ ہو
سخن وری میں تھی گمنام مر گئی وشمہ
امیر شہر یہ تیری کہیں خطا ہی نہ ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






