بچھڑ کر مجھ سے
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadبچھڑ کر مجھ سے کچھ دیر تو تو بھی رویا ہوگا
یاد کر کے مجھے اکثر تو بھی تو نہ سویا ہوگا
یاد ماضی کی تمہیں کچھ دیر تو جلاتی ہو گی
کبھی تنہائی میں میری جان تو بھی کھویا ہوگا
بہا کر آنسو دل کی دنیا میں کیسے تو نے
پیار کی کشتی کو بھی پر خوف ڈبویا ہوگا
دل کی تختی سے میرے نام کی تحریر کو تو
نے کتنی حسرت سے میری جان دھویا ہوگا
تیری باتوں سے ساجد نمی کا ملتا ہے اثر
پرانے زخموں نے کوئی نیا درد بویا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






