بچھڑنے سے کچھ پہلے
Poet: falak By: fauzia, rahim yar khanموہوم سی جنبش پلکوں کی جذبوں کو نم کر جائے گی
لرزتے ہونٹوں پہ کوئی بات نہ ڈھنگ سےآئے گی
ہاتھوں کو لے ہاتھوں میں ڈھارس بندھائی جائے گی
عہدوپیماں کی رسم پھر سے دھرائی جائے گی
پہلی فرصت میں لوٹوں گا ہر لمحہ تم کو سو چوں گا
حراساں دل کی دھڑکن ترتیب میں لائی جائے گی
وہ بات کہ دو دلوں کو جسکا دھڑکا ہے
زباں نہ کہہ پائے گی آنکھوں سے بہہ جائے گی
جوڑے میں پھول لگاوگی نہ گجرے سے کلائی مہکاوگی
کچھ حق جتایا جایے گا کچھ محرومی بہلائی جائے گی
وہ ہاتھ نہ چھوڑیں گے میرا میں بھی نہ چھڑانا چاہونگی
بچھڑنے سے کچھ پہلے کی ملاقات تا دیر بڑھائی جائے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






