بڑی مشکل سے آمادہ ہوا ہے
Poet: اے بی شہزاد By: اے بی شہزاد, Mailsiبڑی مشکل سے آمادہ ہوا ہے
ملیں گے اب کہیں وعدہ ہوا ہے
مرا گاٶں اسے اچھا لگا ہے
یہاں پر اس لیے ٹھہرا ہوا ہے
بتا آثار چہرے کے رہے ہیں
ذرا سا آج وہ سہما ہوا ہے
سدھر پایا نہیں ہے زخم کھا کر
نہیں وہ آج تو بدلا ہوا ہے
گزاری زیست سوزِ ہجر میں ہے
وہ کب سے سولی پر لٹکا ہوا ہے
نہیں پوچھا کسی نے حال اس کا
وہاں سے اس لیے چلتا ہوا ہے
سدھر شہزاد پہلے سے گیا تھا
بڑی مشکل سے وہ اچھا ہوا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






