بڑے اندھیرے ڈھل پڑے ہیں اے! ماہتاب اب سوچ لے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiبڑے اندھیرے ڈھل پڑے ہیں اے! ماہتاب اب سوچ لے
عاشق سبھی اجڑ چکے ہیں اے! کائنات اب سوچ لے
یہاں اظہار بیاں کو لوگ سرکش کہتے ہیں
میں اپنی جزا سے کہتا ہوں اے! احتساب اب سوچ لے
اک حسرت کو پاکر شاید ہزار حسرتیں قتل کردوں
پھر مدعی کو کیا ملے گا اے! انصاف اب سوچ لے
نہ بھی ہو ملن کوئی مگر میرے جانے کے بعد
تیری تنہائیوں کا کیا ملے گا وہ خطاب اب سوچ لے
یہاں گوشہ نشین بہت ہیں مگر کردار قدر کہیں کہیں
تم کس کس درد کو رتبہ دو گے یہ حساب اب سوچ لے
آنکھوں میں کئی آدرش دھڑکنوں سے خالی ہیں
اکثر مزاج دل لبھاتے ہیں اے! آداب اب سوچ لے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






