بگڑے ہوئے حالات میں بے نام و نشاں ہوں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلابگڑے ہوئے حالات میں بے نام و نشاں ہوں
اپنے ہی مقدر کی بہاروں میں خزاں ہوں
نفرت کی نگاہوں سے مجھے تیر نہ مارو
الفت کی زمینوں پہ ابھی رقص کناں ہوں
توں وقت کی آنکھوں کا مری جان اجالا
اب حال ہے یہ بجھتی چراغوں کا دھواں ہوں
چمکا ہے ہمشہ ہی مری آنکھ کا شیشہ
میں وقت کی آنکھوں میں محبت کا نشاں ہوں
مل جائے گا اک روز ترا عشق جزیرہ
ہے ختم سفر جانبِ منزل میں رواں ہوں
کیوں آنکھوں سے میری یہ اداسی نہیں جاتی
کیوں وقت کے دربار پہ میں نوحہ خواں ہوں
سہمے ہوئے منظر میں مری راہ میں وشمہ
حالات پہ شاہد میں ابھی بارِ گراں ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






