بھلا نہین دینا
Poet: Ashhad By: Dua Nasir, Karachi پردیس جا کر کہین بھلا نہین دینا۔
نقوش پیار کے اپنے مٹا نہین دینا۔
دیکھنا! کوشش کرنا یاد رکھنے کی۔
غم ہجر کی بد تر سزا نہین دینا۔
اگر نہین محبت تو صاف کہہ دینا۔
دل کو کسی امید پر لگا نہین دینا۔
یہ بھید الفت کبھی کھل نہ پائے اپنے۔
دیکھنا کہین رسوا ہمین کرا نہین دینا
مانا کہ دور ہو جائو گے یار جدا ہمسے
مگرتا عمر غم تنہائی کی سزا نہین دینا۔
ہم نے سونپی ھے تمہین اپنی حیات کل!
یہ انمول زندگی کہین گنوا نہین دینا
یہ ناچیز تیرے بغیر مر نہ جائےکہین۔
اسد کو یاد رکھنا کہین بھلا نہین دینا۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






