بھول جانا
Poet: M Jawad By: M Jawad, Buffalo Groveنظر کے تیر داغ کے
ستمگر کا یوں ستا نا
ھر چال میں فریبی
ھر چال ظالما نا
آواز میں ترنم
ہونٹوں پے کوئ گانا
مست ہے خودی میں
وہ مۓ کی جان-ے جانا
ابر کا ہے موسم
بارش کا ہے پانی
ڈبا رہا ہے دل کو
اُ س کا روٹھ جانا
مرجھا ے ہوئے دل کا
یوں پھر سے کھل جانا
تیاری ہے پھر سے
دھوکا ہے پھر سے کھانا
سبب اُس کے تبسّم
اور رہنے اَبس توانا
لاے ہمیں گرانی
اِس جی کا تڑپ جانا
کرے گا وفا وہ ہم سے
نا چاہا اگر زمانا
پر کہاں یہ حال دل کا
کہاں وہ خاب سوہانا
پانے کی اُسے کوشش
کر گی ہمیں دیوانا
یوم ے جزا کے دن اب
دیں گے یہی بہانا
وعدے وفا کے سا رے
بار بار یاد دلانا
کیسا ہے ظلم اُس کا
ہر بار بھول جانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






