بھول گیا ہوں

Poet: Mohsin Naqvi By: Haroon Afzal, Kharian

میں جلوہ صد رنگ ہوں یا موج صبا ہوں
احساس کی چوکھٹ پہ کھڑا سوچ رہا ہوں

اک جام تو پی لینے دے اے گردش دوراں
پھر تجھے بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں کیا ہوں

تم یاد کرو پہلی ملاقات کی باتیں
میں پہلی ملاقات ذرا بھول گیا ہوں

سو بار زمانے نے مجھے زہر دیا ہے
سو بار میں سچ بول کے سقراط بنا ہوں

اے دوست زمانے کی عنایات پہ مت جا
تو خاک بسر ہے تو میں زنجیر بہ پا ہوں

مانوس شب غم جو نہیں تھا مرا احساس
ہلکی سی اک آہٹ پہ بھی اب چونک پڑا ہوں

ہر اشک یہاں روکش تنویر سحر تھا
ہر زخم یہ کہتا ہے ترا “بند قبا“ ہوں

اکثر اسے پا لینے کی امید میں محسن
خود اپنے لیے راہ کی دیوار بنا ہوں

Rate it:
Views: 1120
21 Feb, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL