بھول گیا ہوں
Poet: Mohsin Naqvi By: Haroon Afzal, Kharianمیں جلوہ صد رنگ ہوں یا موج صبا ہوں
احساس کی چوکھٹ پہ کھڑا سوچ رہا ہوں
اک جام تو پی لینے دے اے گردش دوراں
پھر تجھے بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں کیا ہوں
تم یاد کرو پہلی ملاقات کی باتیں
میں پہلی ملاقات ذرا بھول گیا ہوں
سو بار زمانے نے مجھے زہر دیا ہے
سو بار میں سچ بول کے سقراط بنا ہوں
اے دوست زمانے کی عنایات پہ مت جا
تو خاک بسر ہے تو میں زنجیر بہ پا ہوں
مانوس شب غم جو نہیں تھا مرا احساس
ہلکی سی اک آہٹ پہ بھی اب چونک پڑا ہوں
ہر اشک یہاں روکش تنویر سحر تھا
ہر زخم یہ کہتا ہے ترا “بند قبا“ ہوں
اکثر اسے پا لینے کی امید میں محسن
خود اپنے لیے راہ کی دیوار بنا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






