بھیڑ ہے لوگوں کی ہر سو آشنا کوئی نہیں
Poet: نصرت صدیقی By: ساجد ہمید, Karachiبھیڑ ہے لوگوں کی ہر سو آشنا کوئی نہیں
میں کسے آواز دوں پہچانتا کوئی نہیں
ان گنت پتے گرے پیڑوں سے اشکوں کی طرح
اب کی رت میں حادثوں کی انتہا کوئی نہیں
میرے دل میں چاند روشن میری پلکوں پر نجوم
میں زمیں پر آسماں ہوں جانتا کوئی نہیں
آپ کے نقش قدم بھی اب نہیں منزل نما
لوٹ جانے کا بھی اب تو راستہ کوئی نہیں
دشمنوں کو بھی جو درس دوستی دیتا رہے
اس ستم گر دور میں اتنا بڑا کوئی نہیں
کس قدر بیگانگی ہے شہر بے احساس میں
آدمی سے آدمی کا رابطہ کوئی نہیں
بے طلب کس کے گلے میں ڈال دوں اس ہار کو
مجھ سے میری زندگی بھی مانگتا کوئی نہیں
کیا وضاحت میں کروں کیا لوگ ہوں گے مطمئن
تجھ کو میری آنکھ سے تو دیکھتا کوئی نہیں
رات کے پچھلے پہر نصرتؔ کسے آواز دوں
سو رہا ہے شہر سارا جاگتا کوئی نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






