بھیڑ ہے لوگوں کی ہر سو آشنا کوئی نہیں

Poet: نصرت صدیقی By: ساجد ہمید, Karachi

بھیڑ ہے لوگوں کی ہر سو آشنا کوئی نہیں
میں کسے آواز دوں پہچانتا کوئی نہیں

ان گنت پتے گرے پیڑوں سے اشکوں کی طرح
اب کی رت میں حادثوں کی انتہا کوئی نہیں

میرے دل میں چاند روشن میری پلکوں پر نجوم
میں زمیں پر آسماں ہوں جانتا کوئی نہیں

آپ کے نقش قدم بھی اب نہیں منزل نما
لوٹ جانے کا بھی اب تو راستہ کوئی نہیں

دشمنوں کو بھی جو درس دوستی دیتا رہے
اس ستم گر دور میں اتنا بڑا کوئی نہیں

کس قدر بیگانگی ہے شہر بے احساس میں
آدمی سے آدمی کا رابطہ کوئی نہیں

بے طلب کس کے گلے میں ڈال دوں اس ہار کو
مجھ سے میری زندگی بھی مانگتا کوئی نہیں

کیا وضاحت میں کروں کیا لوگ ہوں گے مطمئن
تجھ کو میری آنکھ سے تو دیکھتا کوئی نہیں

رات کے پچھلے پہر نصرتؔ کسے آواز دوں
سو رہا ہے شہر سارا جاگتا کوئی نہیں

Rate it:
Views: 807
04 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL