بہار آئی تھی ایک پل کو
Poet: نوید رزاق بٹ By: نوید رزاق بٹ, سویڈنابھی تو کہنے تھے راز دل کے
ابھی تو خاموش تھے فسانے
ابھی تو کھُلنے کو مضطرب تھے
حساب سارے نئے پرانے
ابھی تو غنچے بھی نہ کھلے تھے
ابھی تو بلبل بھی بے خبر تھا
ابھی تو سُوکھے پڑتے تھے پتےّ
ابھی تو سوزِ فراق تر تھا
تم آئے اور یوں چلے گئے بس؟
چلو یونہی پھر
تمھارے آنے کی اِس خوشی میں
ہم اپنے دل کو غموں کو لے کر
جلائیں گے اور جلا کے روشن
اداس راتیں کیا کریں گے
چمن میں بیٹھے ہوئے فخر سے
ہر ایک پتےّ ہر اِک شجر سے
گزرتے راہی سے رہگزر سے
تمھاری باتیں کیا کریں گے
بہار آئی تھی ایک پل کو
چمن میں برسوں رہا چراغاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






