بہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہے

Poet: عالی گوپالوری By: مصدق رفیق, Karachi

بہار آئی ہے عالم میں عجب وحشت کا ساماں ہے
بیاباں میں کبھی گھر ہے کبھی گھر میں بیاباں ہے

مری پابندیاں ہی جب مری آزادیاں ٹھہریں
تو گلشن ہو کہ صحرا سب مری نظروں میں زنداں ہے

ہر اک سرمست عرفاں ہے مگر ہے فرق بس اتنا
کہیں دریا میں قطرہ ہے کہیں قطرے میں طوفاں ہے

چمن میں پھول ہیں پھولوں پہ کچھ بکھرے ہوئے تنکے
مرا اجڑا نشیمن بھی گلستاں در گلستاں ہے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا دعا کس چیز کی مانگوں
کبھی جینے کی خواہش ہے کبھی مرنے کا ارماں ہے

کہاں کا قصہ ہے آخر یہ دل میں کیا سمائی ہے
پلٹ جاؤ پلٹ جاؤ ادھر گور غریباں ہے

نہ چھوڑا فرق کچھ وحشت نے میرے جیب و داماں میں
گریباں ہے جو دامن ہے جو دامن ہے گریباں ہے

رکی ہے لب پہ جاں آکر پہ اب تو موت بھی عالیؔ
عجب کچھ کشمکش میں ہے نہ مشکل ہے نہ آساں ہے
 

Rate it:
Views: 176
25 Mar, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL