بہار آتی ہے کیسے؟ یہ نشانی ہم بھی دیکھیں گے
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaبہار آتی ہے کیسے؟ یہ نشانی ہم بھی دیکھیں گے
بدلتی کس طرح سے ہے ویرانی ہم بھی دیکھیں گے
سنا ہے کان پر تارے قمر ماتھے پہ ہوتا ہے
سجاتے ہیں وہ زیور آسمانی ہم بھی دیکھیں گے
ہوئے ان کی تجلی سے بڑے اندھے زمانے میں
تجلی آج یہ ان کی طوفانی ہم بھی دیکھیں گے
سنا ہے دیکھنے والا کوئی زندہ نہیں رہتا
تو پھر اس شوخ و چنچل کی جوانی ہم بھی دیکھں گے
تجسس بڑھ گیا ہے آج اور قابو نہیں دل پر
طبیعت کی یہ فولادی روانی ہم بھی دیکھیں گے
صرف تم کربلائے عاشقاں کا آسرا ڈھونڈو
وہاں غم ہائے الفت کی گرانی ہم بھی دیکھیں گے
تمہارے ہونٹ سے آبِ حیاتِ نو صنم پی کر
خضر جیسی بہارِ زندگانی ہم بھی دیکھیں گے
بہارِ زندگی میں شوق کی کلیاں یہ کہتی ہیں
بٹھا کر سامنے جادو بیانی ہم بھی دیکھیں گے
کبھی تو جعفری ہو گا خاموشی ٹوٹ جائے گی
خاموشی کی مرگِ ناگہانی ہم بھی دیکھیں گے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






