بہار کو زرد خزاں کا سامنا کرنا ہوگا

Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabad

بہار کو زرد خزاں کا سامنا کرنا ہوگا
ہر تخت نشیں کو تختے پہ اترنا ہوگا

منزلِ زیست ہے بہرحال موت
اک روز ہر ذی روح کو مرنا ہوگا

راستے کبھی منزل نہیں ہوتے راہ رو
دشتِ دنیا میں کچھ پل کاٹھہرنا ہوگا

اے بندہ ء غافل ابھی یہ سوچ زرا
پھر تو چاہے گاوقت ،مگر نہ ہوگا

خواہشوں کے بے لگام گھوڑوں سے
اے مسافر ِ فردوس تجھ کو اُترنا ہوگا

روشن جبیں والوں کی سر ِ حشر
نگاہ ِ پُر نورمیں کوئی ڈر نہ ہوگا

حقیقت توعیاں ہے یہ تردد کیسا
اب ہو سکتا ہے صبر، پھر نہ ہوگا

سوچورضا وقتِ نزاع کیسا ہو
زباں پہ جاری کلمہ اگر نہ ہوگا

دستِ ظالم کو اگر روک دے تُو
پھر کسی پہ ظلم و جبر نہ ہوگا

آرزو ہے جسے سکونِ لا فنا کی
اُسےتسلیم و رضا سے سنورنا ہوگا
 

Rate it:
Views: 626
12 Aug, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL