بہانہ
Poet: Asad By: Asad, mpk جھوٹا کوئی افسانہ سنا کر چلا گیا
آج بھی کوئی بہانہ بنا کر چلا گیا
ھر بار وہی جھوٹی تسلی اپنے دل کو
یعنی اک اور آسرا دلا کر چلا گیا
ایک تو ھجر کی راتیں کاٹے نہیں کٹتیں
اور وہ چراّغ امید بھی بجھا کر چلا گیا
بدلتا ھے رنگ زمانہ آہ!!! دیکھئے کسطرح
جو نا خدا تھا وہی ڈبا کر چلا گیا
اور توقع کیا کیجئے حسن والوں سے؟
ایک آزار اور الفت کا بڑھا کر چلا گیا
اچھے خاصے دور تھے ھم بلائے عشق سے
کوئی آیا اور ھمیں دیوانہ بنا کر چلا گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






