بہت انمول ہے یہ بے وجہ تولا نہ کرو

Poet: UA By: UA, Lahore

بہت انمول ہے یہ بے وجہ تولا نہ کرو
نہیں معلوم وفا کیا ہے تو بولا نہ کرو

بڑی معصوم چاہت ہے ہماری یاد رہے
میری وفا کو سرعام یوں رولا نہ کرو

سرد مہری سے اپنی موم جیسے پیکر کو
دیکھنا تم کہیں پھر برف کا گولہ نہ کرو

مجھے یقیں ہے وفا کا چلن سیکھا ئےگی
جفا کاروں بھی وفا کہ دل ہولا نہ کرو

جھیل آنکھوں میں جھانکنے کا حوصلہ تو کرو
نشے میں ہو نہ لگے اس طرح ڈولا نہ کرو

سکون میں جو ہے شبنم تو اسے رہنے دو
لہو رنگ نہ کرو دیکھو اسے شعلہ نہ کرو

کئی ٹکڑوں میں جو بٹا وجود ہے عظمٰی
سمیٹ کے رکھو اپنی گرہیں کھولا نہ کرو

Rate it:
Views: 577
10 Feb, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL