بہت دیر ہو گئی ہے آنسو بہائے کو
Poet: دانش ارشاد By: Danish irshad, Gojraبہت دیر ہو گئی ہے آنسو بہائے کو
کوئی ایسی بات کہو ہمیں رلاؤ تو سہی
پردہ تو لازم ہے غیروں سے جاناں
ہم تو اپنے ہیں یہ چہرہ دکھاؤ تو سہی
لوٹ آئیں گے تمہارے پاس پل بھر میں
ان دوریوں کو تم کبھی مٹاؤ تو سہی
تیری زلفوں میں جو پُرسکون رات تھی
ویسی نیند ہمیں پھر سے سُلاؤ تو سہی
ہم تو حال اپنا سنا چکے ہیں تم کو
تم بھی حال اپنا کبھی سناؤ تو سہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






