بہت سارے سوالوں کے جواب باقی ہیں

Poet: UA By: UA, Lahore

بہت سارے سوالوں کے جواب باقی ہیں
ابھی تو دیکھنے کئی ادھورے خواب باقی ہیں

وہ جنہیں اپنی آنکھوں نے ابھی تک دیکھا ہی نہیں
ابھی وہ سارے ان دیکھے ہمارے خواب باقی ہیں

پیاس کے صحراؤںمیں دِلاسہ دینے کے لئے
اوجھل بہت سے نظروں سے سراب باقی ہیں

جو تمہاری راہوں میں نچھاور کئے جانے ہیں
ابھی وہ سب حسیں نایاب کِھلتے گلاب باقی ہیں

بھلا کیسے تمہارے ساتھ ہم بےباک ہو جائیں
کہ اپنے درمیاں ٹھہرے ادب آداب باقی ہیں

ابھی ہم کسطرح اِکدوسرے پہ واضح ہو جائیں
ہمارے درمیاں حائل پردے، حجاب باقی ہیں

تم کہاں چلدیئے عظمٰی بھری یہ بزم چھوڑ کے
سبھی مہمان محفل میں ارے جناب باقی ہیں

Rate it:
Views: 839
23 Aug, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL