بہت سی باتیں بتانی ہیں تجھے
Poet: محمد مسعود By: محمد مسعود, نونٹگھممیرے گاؤں میں سمندر نہیں ہے
کچھ قطرے پانیوں کے قید ہیں
تالاب میں
جب بھی میں وطن واپس جاتا ہوں
تو ایک شام وہاں گزار دیتا ہوں
مسجد والے تالاب کی سیڑھیوں پر
تالاب کا پانی بدلتا نہیں کبھی
پانی قید ہے وہاں
شاید اسی لیے پہچانتا ہے مجھے
جب بھی میں جاؤں وہاں تو کہتا ہے
اچھا ہوا مسعود تو آ گیا
بہت سی باتیں بتانی ہے تجھے
اور پھر شروع ہو جاتا ہے
وہ فلاں کی دادی فوت ہو گی
فلاں کے گھر بیٹا ہوا ہے
فلاں بابو کی نوکری چھوٹ گئی
مغرب کی طرف کا پیپل کا درخت کاٹ دیا
سڑک بنانے والوں نے
وغیرہ وغیرہ
پھر مجھ سے مخاطب ہو کر
پوچھتا ہے مسعود
اچھا یہ تو بتا شہر کے مزاج کیسے ہیں
کون بتاتا ہے تجھے خبریں شہر کی
میں جواب دیتا ہو
سمندر ہے نا ڈھیر سارا پانی
اور اتنا کہتے ہی
ایک بگولا پانی کا
گلے میں اٹک جاتا ہے
خُدا حفظ کہہ کہ چلا آتا ہوں
واپس شہر میں
جہاں ایک بڑا سا سمندر ہے
روز سمندر کے کنارے بیٹھا
دیکھتا ہوں
کیسے سینکڑوں گیلن پانی
بدل جاتے ہیں گزر جاتے ہیں
ایک آدھ قطرہ پانی کا
میری طرف بھی اچھال دیتا ہے سمندر
بس یوں ہی بغیر کسی جان پہچان کے
اب روز بدلتے پانيوں والا سمندر
کیسے شناخت کر پائے گا مجھے
کیسے امید کروں اس سے
کہ وہ کہے گا مسعود
اچھا ہوا تو آ گیا
بہت سی باتیں بتانی ہیں تجھے
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






