بہت سے خوابوں سے روٹھو گے
Poet: R.K JAZEB By: R.K JAZEB, KSAتم آؤ تو نظاروں میں دلکشی سی رھے
ھوا بھی مہکے اور فضاؤں میں تازگی سی رھے
نظر نظر سے ملاؤ تو بات بن جاتی ھے
تیری حسین نگاھوں سے دوستی سی رھے
میں رات بھر تیرے آنے کا انتظار کرتا ھوں
تو لوٹ آئے تو سانسوں میں زندگی سی رھے
یوں دھندلے دھندلے سے تصور سے آنکھ کھل جائے
جو چہرہ آنکھوں میں آئے تو روشنی سی رھے
گراؤ بجلی نہ میرے دل کے شکستہ خانوں پر
بہت سے خوابوں سے روٹھو گے تو بے بسی رھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






