بہت عرصے کے بعد آج قلم اٹھایا ہے
Poet: Fasih ur Rehman By: Fasih ur Rehman, Lahoreبہت عرصے کے بعد آج قلم اٹھایا ہے
ٹوٹا پھوٹا سا بےوزن کلام امڈ آیا ہے
میں اگر وجود و جسم ہوں جامی
تو تو میرے وجود کی بے کمال چھایا ہے
کوئی حسرت و تشنگی نہیں باقی
تیری صورت میں سب رنگ کائنات پایا ہے
کسی قسم کا خوف نہیں آفتوں کا مجھکو
میرے لئے تو نے دعاؤں کا ہاتھ اٹھایا ہے
خدا کرے گا نہ ھم کو دنیا میں رسوا
اسکی رحمتوں کا ہمہ وقت ہم پر سایا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






