بہت مسخرا تھا مگر آج بہت رو رہا تھا وہ
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer, Karachiبہت مسخرا تھا مگر آج بہت رو رہا تھا وہ
نیک بنتا تھا مگر آج گناہ کا اظہار کررہا تھا وہ
سب کچھ بھول کر سب کو اک اشارے جو نچاتا تھا
سنگدل تھا مگر آج اپنی باری پر تڑپ رہا تھا وہ
خدا کو بھلاکر بادشاہ سب کا جو بن گیا تھا
آخری منزل آئی تو سب کو بھلا رہا تھا وہ
انسانیت کو بھول کر سب ہی کچھ جو بن گیا تھا
آج بہت رورہا اور معافیاں مانگ رہا تھا وہ
دنیا کے منافقوں کا برا انجام ہے انو
عبرت کا نشان بنکر توبہ کررہا تھا وہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






