بہت گُمان تھا، موسم شناس ہونے کا

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

بہت گُمان تھا، موسم شناس ہونے کا
وہی بہانہ بنا ہے، اُداس ہونے کا
بدن کو کاڑھ لیا، زخم کے گُلابوں سے
تو شوق پورا کیا، خوش لباس ہونے کا
فضا مہکنے لگے، روشنی جھلکنے لگے
تو یہ نشاں ہے، تِرے آس پاس ہونے کا
گُلوں کے بیچ، وہ چہرہ کِھلا، تو ہر تِتلی
تماشا کرنے لگی، بدحواس ہونے کا
اُسے بھی شوق تھا، بے وجہ دل دُکھانے کا
سو ہم نے کھیل رچایا، اُداس ہونے کا
نئے سفر، پہ روانہ تو ہم بھی ہو جاتے
بس انتظار تھا موسم کے راس ہونے کا
نظر میں خاک ہوئے، گُلرُخاں بھی جب سے ہمیں
شرف ملا ہے، تِرے روشناس ہونے کا

Rate it:
Views: 826
23 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL