بہت ہی سرد ہے موسم
Poet: طارق اقبال حاوی By: Tariq Iqbal Haavi, Lahoreکھلے نہ بال چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم
گرم کوٸی شال اوڑھو تم، بہت ہی سرد ہے موسم
برسی ہے باغیچے میں، پوری رات ہی شبنم
نہ ننگے پاٶں دوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم
بہت نازک طبیعت ہو، میری مانو یہ مت کرنا
نہ گیلے پھول توڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم
برف پہ دل بنانا یوں، تمھیں بیمار کردے گا
میری جاں ضد یہ چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم
ٹھٹھرنے سے تو بہتر ہے، پاس چمنی کے سنگ بیٹھیں
گاڑی گھر کو موڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






